نئی دہلی،24/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت کی طرف سے آر ٹی آئی ایکٹ میں کی گئی تبدیلی کی8اپوزیشن پارٹیاں مخالفت کر رہی ہیں۔کانگریس لیڈر اور ایم پی ششی تھرور نے بدھ کو لوک سبھا میں اسی مسئلے کو لے کر حکومت پر نشانہ لگایا۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمیشہ اقتدار میں ہی رہیں گے، جب وہ اقتدار میں نہیں ہوں گے تو ضرور پچھتائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آر ٹی آئی ایکٹ میں جو ترمیم کی جا رہی ہے، اس کے بعد حق اطلاعات محض ایک سرکاری دفتر کی طرح کام کرے گا، جو وزیر اعظم کے تحت آتے ہیں۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ اس معاملے پر لوگوں سے رائے نہیں لی گئی، اس ترمیم کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے،یا پھر اس مسئلے کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیج کر اس پر تفصیل سے بحث ہونی چاہیے۔ششی تھرور کے علاوہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال، اسد الدین اویسی اور سماجی کارکن انا ہزارے سمیت کئی بڑی شخصیات نے اس ترمیم پر سوال کھڑے کئے ہیں۔انا ہزارے نے ایک خط جاری کر لکھا کہ مرکزی حکومت اس طرح کی تبدیلیوں لا کر ملک کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے،تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ دوبارہ تحریک کر سکیں۔غور طلب ہے کہ پیر کو لوک سبھا میں آرٹی آئی ایکٹ میں ترمیم کو منظوری مل گئی ہے،اگرچہ راجیہ سبھا میں ابھی یہ بل پاس ہونا باقی ہے،نئی ترمیم کے تحت حکومت مرکزی سطح سے لے کر ریاستی سطح تک چیف انفارمیشن کمشنر (سی آئی سی) اور انفارمیشن کمشنروں کی مدت اور سروس کی شرائط میں تبدیلی لانے جا رہی ہے۔